میں اس پے سب وار دوں۔ ۔ ۔
وہ میرا نام و نسب خاندان مانگے تو
میں اس پہ وار دوں سارا جہان مانگے تو
یقین کیسے دلاوں اسے محبت کا
زبان کاٹ کے دے دوں زبان مانگے تو
فریب دینے سے بہتر فریب کھانا ہے
کہ تیر توڑنے والا کمان مانگے تو
بس اک اشارے کا ہوں منتظر زمانے سے
وہ مجھ سے میری وفا کا نشان مانگے تو
وہ جانتا ہے تو کیوں مانتا نہیں اس کو
مکین دل کا وہی ہے مکان مانگے تو
یہ لوگ پھر ہی غم دل سے آشنا ہوں گے
تمھارا طرز ستم آسمان مانگے تو
جس کی خوشی کے لیے میں زندہ ہوں
میں جان وار دوں وہ امتحان مانگے تو


Comments
Post a Comment