" شکست کس کی "
" شکست کس کی " عجیب منظر ہے ! دشت ِ کرب و بلا میں خیموں کی ایک بستی نے کاخ ِ شاھی گرا دیا ہے زمانہ دیکھے کہ بے ردائی نے سچ کے نیزے سے جھوٹ کا پردہ نوچ ڈالا ہے پیاس کے بے کراں سمندر سے صبر کی ایک موج آکر فرات سارا نگل گئی ہے یہ کیسا منظر ھے ! مشک بردار بازوؤں سے کسی نے تلوار کاٹ دی ھے گلوئے اصغر نے نوک ِناوک کو مات دی ھے عجیب منظر ھے ! ایک شہہ رگ نے دھار خنجر کی کند کر دی ھے ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے مرا نہیں ھے مقابلے میں وہ کتنے سر تھے جو زندہ بچنے پہ ناز کرتے تھے اب شہیدوں کی زندگی سے شکست کھا کر مرے پڑے ھیں ,,,,,شہزاد انجم،،،،،